نئے صوبوں کی بحث: پشاور میں 850 طلبہ اور ماہرین کا انتظامی اصلاحات پر مکالمہ

پشاور، یکم ستمبر: انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کے قیام کی ضرورت، ممکنہ فوائد اور حکمرانی کے نظام پر اس کے اثرات کے حوالے سے پشاور میں خیبر پختونخوا کی مختلف جامعات کے طلبہ اور ماہرین کے درمیان خصوصی سیمینار اور مکالمہ ہوا۔

نشست میں مختلف جامعات سے تعلق رکھنے والے تقریباً 850 طلبہ نے شرکت کی، جہاں ماہرین نے نئے صوبوں کے قیام کو محض جغرافیائی تقسیم کے بجائے انتظامی کارکردگی، وسائل کی منصفانہ تقسیم، اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور عوامی خدمات کی بہتری کے تناظر میں زیر بحث لایا۔

یونیورسٹی آف پشاور کے شعبہ صحافت کی چیئرپرسن پروفیسر ڈاکٹر مہناز، شعبہ امن و تنازعات کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر فہیم، سینئر تجزیہ کار محمد وسیم، عقیل یوسفزئی اور محمود جان بابر، جبکہ اسلامیہ کالج پشاور کے شعبہ سیاسیات کے چیئرمین ڈاکٹر امیر اللہ نے گفتگو میں حصہ لیا۔

مقررین کا کہنا تھا کہ بڑے انتظامی یونٹس میں اختیارات اور وسائل کی تقسیم کے باعث بعض علاقوں میں عوامی مسائل کے حل میں تاخیر پیدا ہوسکتی ہے۔ ان کے مطابق چھوٹے اور مؤثر انتظامی یونٹس فیصلہ سازی کو عوام کے قریب لا سکتے ہیں، تاہم کسی بھی انتظامی تبدیلی کا بنیادی مقصد بہتر حکمرانی اور شہریوں کو مؤثر خدمات کی فراہمی ہونا چاہیے۔

مکالمے میں وسائل کی منصفانہ تقسیم، متوازن علاقائی ترقی، انتظامی کارکردگی، اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور عوامی مسائل کے فوری حل سمیت مختلف پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

طلبہ نے نئے صوبوں کے قیام کی آئینی، انتظامی اور معاشی اہمیت سے متعلق متعدد سوالات اٹھائے، جن پر ماہرین نے تفصیلی جوابات دیے۔ شرکاء نے اس امر پر بھی گفتگو کی کہ انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی کے ساتھ مقامی حکومتوں کو مؤثر اور بااختیار بنانا بھی بہتر حکمرانی کے لیے اہم ہے۔

سیمینار کے شرکاء نے نئے صوبوں کے قیام جیسے اہم قومی معاملے پر ماہرین اور نوجوانوں کے درمیان براہ راست مکالمے کو مفید قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے مباحث پالیسی سازی کے عمل میں عوامی اور علمی نقطۂ نظر کو شامل کرنے میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔

Comments (0)
Add Comment