میثاقِ مکہ پاکستان کے بڑھتے سفارتی کردار کا مظہر، معاشی تعاون کے نئے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں

پشاور، 10 ستمبر: پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ پشاور کے زیر اہتمام میثاقِ مکہ کے موضوع پر ورکشاپ منعقد ہوئی جس میں مقررین نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان بڑھتا ہوا دفاعی و اسٹریٹجک تعاون مستقبل میں تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی اور صنعتی شعبوں میں تعاون کے نئے امکانات پیدا کر سکتا ہے۔

ورکشاپ کی صدارت ڈپٹی ڈائریکٹر پی آئی ڈی رومانہ اسد خان نے کی جبکہ سینئر صحافی امجد عزیز ملک نے کلیدی خطاب کیا۔ ورکشاپ میں آصف ودود، سید قیصر رضوی، شاہدہ پروین، عمران خان، عدنان خان، شائستہ اور مہ وش سمیت مقامی صحافیوں نے شرکت کی۔

امجد عزیز ملک نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی سفارتی قیادت، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دفاعی کردار اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی فعال سفارتی پالیسی کے باعث پاکستان مسلم دنیا میں اہم مقام حاصل کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میثاقِ مکہ برائے مشترکہ دفاع پاکستان کی خارجہ اور دفاعی پالیسی میں ایک اہم پیش رفت ہے جس کے ذریعے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے تاریخی برادرانہ تعلقات کو نئے اسٹریٹجک فریم ورک میں آگے بڑھانے کا موقع پیدا ہوا ہے۔

ان کے مطابق یہ تعاون صرف دفاعی شعبے تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ مستقبل میں سیاسی، معاشی، تکنیکی اور عوامی سطح پر روابط کو بھی فروغ دے سکتا ہے۔ پاکستان اپنے جغرافیائی محل وقوع، دفاعی صلاحیت، سفارتی تجربے اور مسلم دنیا کے ساتھ دیرینہ تعلقات کے باعث اس تعاون میں مؤثر کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

شرکاء نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف، سعودی ولی عہد و وزیراعظم محمد بن سلمان اور ترک صدر رجب طیب اردوان کی جانب سے 7 اگست کو مکہ مکرمہ میں معاہدے پر دستخط پاکستان کی خارجہ پالیسی میں ایک اہم پیش رفت ہے۔

مقررین کے مطابق معاہدے کے تحت تینوں ممالک نے مشترکہ دفاع اور اجتماعی سلامتی کو مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے جبکہ کسی ایک ملک کے خلاف مسلح حملے کو تینوں ممالک کے خلاف حملہ تصور کرنے کے اصول پر اتفاق کیا گیا ہے۔

ورکشاپ میں کہا گیا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز، کا کردار بھی اس عمل میں اہم ہے۔ 31 اگست کو استنبول میں میثاقِ مکہ کے تحت اسٹریٹجک پولیٹیکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی کے اجلاس میں ان کی شرکت سے پاکستان کی جانب سے دفاعی اور اسٹریٹجک تعاون کو عملی شکل دینے کی اہمیت اجاگر ہوئی۔ اجلاس میں دفاعی صنعت، مشترکہ ٹیکنالوجی کی تیاری اور پیداوار سمیت دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے پر بھی غور کیا گیا۔

مقررین نے کہا کہ میثاقِ مکہ پاکستان کو سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو دفاعی تعاون سے آگے بڑھاتے ہوئے تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی، صنعت، تعلیم اور انسانی وسائل کی ترقی تک وسعت دینے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

ڈپٹی ڈائریکٹر پی آئی ڈی رومانہ اسد خان نے کہا کہ میثاقِ مکہ کے تحت سعودی عرب میں قائم ہونے والے سیکرٹریٹ کے پہلے سیکرٹری جنرل کا تعلق پاکستان سے ہونے کی تجویز ملک کے لیے ایک اہم سفارتی موقع اور ذمہ داری ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ تینوں ممالک نئے دفاعی اور اسٹریٹجک تعاون کے ڈھانچے میں پاکستان کو اہم کردار دینا چاہتے ہیں۔

رومانہ اسد خان نے کہا کہ میثاقِ مکہ کے بعد پاکستان کے لیے معاشی امکانات کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ دفاعی صنعت میں مشترکہ پیداوار، ٹیکنالوجی کی منتقلی، تحقیق و ترقی اور صنعتی تعاون سے روزگار، سرمایہ کاری اور برآمدات کے نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سعودی اور ترک سرمایہ کاری کو پاکستان کے توانائی، معدنیات، انفراسٹرکچر، زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور صنعتی شعبوں کی طرف منظم انداز میں راغب کیا جائے تو اس تعاون سے ملکی معیشت کو بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ان معاشی فوائد کے حصول کا دارومدار معاہدے کے مؤثر نفاذ، پالیسیوں کے تسلسل اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے پر ہوگا۔

Comments (0)
Add Comment