خیبر، 10 ستمبر 2026: لنڈی کوتل سے 34 روز قبل اغواء ہونے والے بزرگ تاجر محمد ظریف شینواری عرف لنڈے حاجی کو خیبر پولیس نے جدید تکنیکی ذرائع اور مسلسل تفتیش کے بعد بحفاظت بازیاب کرا لیا، جبکہ مقدمے میں اب تک 17 مبینہ ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ پولیس کے مطابق کیس کے مرکزی تین ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
ڈی پی او خیبر وقار احمد اور ایس ایچ او تھانہ لنڈی کوتل عدنان آفریدی نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ محمد ظریف شینواری کو 7 اگست کو لنڈی کوتل سے اغواء کیا گیا تھا، جس کے بعد خیبر پولیس نے مغوی کی بازیابی کے لیے شبانہ روز بنیادوں پر کارروائی اور جدید تکنیکی ذرائع سے تفتیش جاری رکھی۔
ڈی پی او خیبر کے مطابق پولیس نے تکنیکی شواہد اور مسلسل تفتیش کی مدد سے اغواء کاروں تک رسائی حاصل کی، جس کے نتیجے میں مغوی تاجر کو گزشتہ شب بحفاظت بازیاب کرا لیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ اغواء کاروں کی جانب سے مبینہ طور پر مغوی کی رہائی کے بدلے تین لاکھ ڈالر تاوان کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
وقار احمد نے کہا کہ مغوی کے موبائل فون سے تین لاکھ ڈالر کے مبینہ تاوان سے متعلق موصول ہونے والی کال بھی کیس کو ٹریس کرنے میں اہم ثابت ہوئی، تاہم معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مغوی کی بازیابی میں ایس ایچ او تھانہ لنڈی کوتل عدنان آفریدی نے اہم کردار ادا کیا، جبکہ فرنٹیئر کور، خیبر رائفلز، وفاقی تحقیقاتی ادارے، انسداد دہشت گردی ڈیپارٹمنٹ اور دیگر ریاستی اداروں نے بھی پولیس کے ساتھ تعاون کیا۔
ڈی پی او خیبر نے کہا کہ کیس میں اب تک 17 مبینہ ملزمان گرفتار کیے جا چکے ہیں اور مختلف علاقوں میں متعدد چھاپے مارے گئے ہیں۔ مرکزی تین ملزمان کی گرفتاری کے لیے بھی کارروائیاں جاری ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ کوئی بھی ملزم قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکتا اور کیس کو حتمی انجام تک پہنچانے کے لیے پولیس کی کارروائیاں جاری رہیں گی۔