گلگت بلتستان بلدیاتی انتخابات: چیف الیکشن کمشنر کا قانونی ترامیم جلد مکمل کرنے پر زور

گلگت، 11 ستمبر 2026ء: چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان راجہ شہباز خان (تمغۂ شجاعت) نے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کو مراسلہ ارسال کرتے ہوئے گلگت بلتستان لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2014ء میں مجوزہ ترامیم کا عمل جلد مکمل کرنے پر زور دیا ہے، تاکہ الیکشن کمیشن ترامیم کا جائزہ لے کر انتخابی پروگرام میں ضروری قانونی و انتظامی تبدیلیاں کرسکے اور بلدیاتی انتخابات کا عمل مزید آگے بڑھایا جاسکے۔

چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ الیکشن کمیشن گلگت بلتستان بروقت، آزادانہ، منصفانہ، شفاف، پُرامن اور جامع بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ حلقہ بندیوں کا عمل مکمل، انتخابی فہرستیں تیار جبکہ ضلعی ریٹرننگ افسران، ریٹرننگ افسران اور دیگر متعلقہ انتخابی فارمیشنز بھی آئندہ مراحل کے لیے تیار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے گلگت بلتستان میں بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے زمینی، موسمی، مذہبی، انتظامی، قانونی اور امن و امان کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے مختلف مراحل پر انتخابی پروگرام میں ضروری تبدیلیاں کیں۔ ابتدائی طور پر 15 دسمبر 2025ء کو انتخابی پروگرام جاری کرتے ہوئے 14 فروری 2026ء کو پولنگ مقرر کی گئی تھی، تاہم شدید برف باری، انتہائی سرد موسم، سڑکوں کی بندش اور آل پارٹیز کانفرنس میں سیاسی جماعتوں و امیدواروں کے تحفظات کے باعث یہ پروگرام واپس لے لیا گیا۔

بعد ازاں 3 جون 2026ء کو انتخابی عمل دوبارہ شروع کرتے ہوئے 2 اگست 2026ء کو پولنگ کی تاریخ مقرر کی گئی، تاہم محرم الحرام، صفر، مذہبی حساسیت، امن و امان اور سیکیورٹی سے متعلق مختلف وفود کے تحفظات کے پیش نظر 15 جون کو انتخابی پروگرام میں ردوبدل کرتے ہوئے 27 ستمبر 2026ء کو پولنگ ڈے مقرر کیا گیا۔

چیف الیکشن کمشنر کے مطابق اسی دوران صوبائی حکومت نے لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2014ء میں مجوزہ ترامیم مکمل کرنے کے لیے سات روز کی مہلت طلب کی، جس پر الیکشن کمیشن نے ادارہ جاتی تعاون اور عوامی مفاد کے پیش نظر 14 سے 21 اگست تک مہلت دی۔ حکومت کی مزید سات روز کی درخواست بھی منظور کرتے ہوئے مدت 28 اگست تک بڑھا دی گئی، تاہم تاحال مجوزہ قانونی ترامیم کا عمل مکمل نہیں ہوسکا۔

راجہ شہباز خان نے واضح کیا کہ بلدیاتی انتخابات کے باقی مراحل کی بروقت تکمیل کے لیے واضح، حتمی اور قابلِ عمل قانونی فریم ورک ناگزیر ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومت پر زور دیا کہ مجوزہ ترامیم کا عمل بلا تاخیر مکمل اور نافذ کیا جائے تاکہ الیکشن کمیشن ان کا جائزہ لے کر انتخابی شیڈول میں ضروری قانونی و انتظامی تبدیلیاں کرسکے۔

انہوں نے کہا کہ قانون سازی کی بروقت تکمیل سے الیکشن کمیشن کو نظرثانی شدہ انتخابی پروگرام جاری کرنے اور انتخابات کے لیے تمام انتظامات بروقت مکمل کرنے میں مدد ملے گی۔ گلگت بلتستان میں شدید موسم سرما کے آغاز سے قبل انتخابی عمل مکمل کرنا بھی ایک اہم انتظامی ضرورت ہے۔

چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام گزشتہ 22 سال سے منتخب بلدیاتی حکومتوں سے محروم ہیں اور یہاں آخری بلدیاتی انتخابات 2004ء میں ہوئے تھے۔ طویل عرصے سے منتخب بلدیاتی اداروں کی عدم موجودگی کے باعث نچلی سطح پر عوامی نمائندگی اور مقامی طرز حکمرانی کا نظام متاثر ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مؤثر بلدیاتی نظام کا قیام اور سیاسی، انتظامی و مالی اختیارات منتخب نمائندوں کو منتقل کرنا صوبائی حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے، جبکہ آزادانہ، منصفانہ، شفاف اور پُرامن انتخابات کا انعقاد الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔ دونوں اداروں کے باہمی تعاون سے ہی بلدیاتی انتخابات کا عمل کامیابی سے مکمل کیا جاسکتا ہے۔

راجہ شہباز خان نے کہا کہ الیکشن کمیشن گلگت بلتستان بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور توقع رکھتا ہے کہ صوبائی حکومت مجوزہ قانونی ترامیم کا عمل بلا تاخیر مکمل کرے گی، تاکہ عوام کو ان کے جمہوری اور آئینی حقِ نمائندگی کی فراہمی کے لیے انتخابی عمل مزید آگے بڑھایا جاسکے۔GB Local Body

Comments (0)
Add Comment