شہریوں کا دباؤ بڑھ گیا، پیٹرولیم لیوی پر حکومت اور جماعت اسلامی کے مذاکرات کا دوسرا مرحلہ شروع

اسلام آباد، 11 ستمبر 2026ء: پیٹرولیم لیوی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے معاملے پر حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات کا دوسرا مرحلہ شروع ہوگیا، تاہم شہریوں اور عوامی حلقوں نے مذاکرات کے باوجود عملی ریلیف نہ ملنے پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ کی قیادت میں جماعت اسلامی کا وفد حکومتی ٹیم سے مذاکرات کے لیے پہنچا۔ وفد میں سید فراست شاہ، نصراللہ رندھاوا، عنایت اللہ خان، ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ اور نوید علی بیگ شامل ہیں۔
حکومتی مذاکراتی ٹیم کی قیادت وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کی، جبکہ رانا ثناء اللہ خان، علی پرویز ملک اور بلال اظہر کیانی بھی حکومتی ٹیم میں شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق یہ مذاکرات کا دوسرا مرحلہ ہے۔ پہلے مرحلے میں جماعت اسلامی نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے حوالے سے چھ تجاویز حکومتی ٹیم کے سامنے پیش کی تھیں، جن پر دوسرے مرحلے میں مزید غور کیا جا رہا ہے۔
دریں اثنا شہریوں اور عوامی حلقوں نے حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکراتی عمل پر سخت سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کو فوٹو سیشن، رسمی ملاقاتوں اور بے نتیجہ ٹیبل ٹاک کی نہیں بلکہ فوری، واضح اور عملی ریلیف کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر گزشتہ پندرہ روز کے دوران دو مرتبہ مذاکرات کے باوجود عوام کو کوئی ٹھوس فائدہ نہیں پہنچا تو یہ عمل محض وقت گزاری کے سوا کچھ نہیں۔ عوامی حلقوں نے خبردار کیا کہ اگر یہی روش برقرار رہی تو مذاکرات 2027ء تک بھی جاری رہ سکتے ہیں، جبکہ مہنگائی کا سارا بوجھ عوام ہی اٹھاتے رہیں گے۔
عوامی نمائندوں اور شہریوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی اور عوام کو ریلیف دلانے کے لیے احتجاج اور دھرنے کا اعلان کیا تھا، اس لیے مذاکرات کی میز پر بھی دوٹوک، سخت اور نتیجہ خیز مؤقف اختیار کیا جائے۔ ان کے مطابق اجلاسوں، ملاقاتوں اور مذاکرات کے اعلانات سے خالی خزانے اور مہنگائی سے دوچار عوام کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ ایک طرف حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات جاری ہیں، جبکہ دوسری جانب پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں 20 روپے اضافے کی اطلاعات نے عوام کی پریشانی میں مزید اضافہ کردیا ہے۔ عوام سوال کر رہے ہیں کہ جب قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں تو مذاکرات کے دوران عوام کے مفاد میں عملی پیش رفت کہاں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت عوام کو ریلیف دینے کے بجائے مسلسل نئے مالی بوجھ تلے دبا رہی ہے، جو ناقابلِ قبول ہے۔
عوامی حلقوں نے جماعت اسلامی سے مطالبہ کیا کہ وہ مذاکرات کے حوالے سے عوام کو اندھیرے میں رکھنے کے بجائے واضح طور پر بتائے کہ حکومت کے سامنے کون سے مطالبات رکھے گئے، کن نکات پر پیش رفت ہوئی اور عوام کو عملی ریلیف کب ملے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مذاکرات کسی حتمی نتیجے تک پہنچانے کے لیے ہیں تو ان کی مدت، اہداف اور متوقع نتائج فوری طور پر سامنے لائے جائیں، بصورت دیگر احتجاجی مؤقف اور مذاکراتی عمل میں تضاد عوام کے لیے مزید ابہام پیدا کرے گا۔
بعض شہری حلقوں نے سخت تنقید کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا کہ طویل مذاکراتی عمل حکومت کے لیے وقت حاصل کرنے اور عوامی دباؤ کم کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ ان کے مطابق جماعت اسلامی کو یہ تاثر ہرگز پیدا نہیں ہونے دینا چاہیے کہ مذاکرات کے نام پر حکومت کو اضافی مہلت دی جا رہی ہے۔ عوامی نمائندوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کی ذمہ داری ہے کہ وہ مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت یا ناکامی سے عوام کو فوری طور پر آگاہ کرے اور اگر حکومت ٹال مٹول سے کام لے تو واضح احتجاجی لائحہ عمل اختیار کرے۔
عوامی حلقوں نے حکومت سے بھی مطالبہ کیا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری طور پر عوام کو ریلیف دیا جائے۔ شہریوں نے خبردار کیا کہ مہنگائی، بجلی اور ایندھن کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے عام آدمی کی زندگی اجیرن بنا دی ہے، اس لیے مزید وعدے، تاخیری حربے اور نمائشی مذاکرات کسی صورت برداشت نہیں کیے جائیں گے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ مذاکرات کو غیر معینہ مدت تک گھسیٹنے کے بجائے قابلِ عمل، شفاف اور فوری فیصلے کیے جائیں۔

Comments (0)
Add Comment