ایران پالیسی کی قیمت اور امریکی خاندان

ایران کے رہبرِ انقلاب کے بین الاقوامی امور کے سینئر مشیر علی اکبر ولایتی کا یہ کہنا کہ ’’امریکی خاندان اپنے حکمرانوں کی مہم جوئی کی قیمت ادا کر رہے ہیں‘‘ محض ایک سیاسی بیان نہیں بلکہ موجودہ عالمی اور علاقائی صورتحال کے معاشی اثرات کی جانب توجہ دلاتا ہے۔ ایران کے خلاف طویل عرصے سے جاری پابندیوں، اقتصادی دباؤ اور سیاسی محاذ آرائی کے باوجود یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ ایسی پالیسیوں کے بالواسطہ اثرات خود امریکی عوام اور عالمی معیشت پر کس حد تک پڑ رہے ہیں۔

ولایتی نے امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کی ایران کے خلاف اقتصادی پابندیوں سے متعلق گفتگو، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بحری ناکہ بندی کے دعوؤں اور امریکی سینیٹر جان کارنن کی بڑھتی ہوئی مہنگائی اور گھریلو اخراجات سے متعلق تشویش کو سامنے رکھتے ہوئے یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ ایران پر دباؤ بڑھانے کی پالیسی کی قیمت بالآخر امریکی شہری بھی ادا کر سکتے ہیں۔

یہ معاملہ اس لیے اہم ہے کہ آج کی عالمی معیشت ایک دوسرے سے گہری طرح جڑی ہوئی ہے۔ ایران ایک ایسے خطے میں واقع ہے جو عالمی توانائی، تیل کی تجارت اور سمندری نقل و حمل کے حوالے سے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھنے، بحری تجارت متاثر ہونے یا توانائی کی فراہمی کے بارے میں خدشات پیدا ہونے کی صورت میں عالمی منڈیوں پر اس کے اثرات مرتب ہونا فطری امر ہے۔

تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ صرف پٹرول کی قیمت تک محدود نہیں رہتا۔ نقل و حمل، صنعت، فضائی سفر، خوراک، بجلی اور روزمرہ استعمال کی اشیا کی پیداواری لاگت بھی اس سے متاثر ہوتی ہے۔ اسی لیے ایران کے خلاف کسی بھی پالیسی کا جائزہ صرف تہران پر پڑنے والے اثرات کی بنیاد پر نہیں بلکہ اس کے ممکنہ عالمی اور امریکی معاشی نتائج کو سامنے رکھ کر بھی لیا جانا چاہیے۔

تاہم یہ کہنا بھی درست نہیں ہوگا کہ امریکہ میں مہنگائی یا گھریلو اخراجات میں اضافے کی تمام ذمہ داری ایران کے خلاف پالیسیوں پر عائد ہوتی ہے۔ امریکی معیشت پر شرح سود، حکومتی اخراجات، تجارتی پالیسی، عالمی توانائی کی قیمتیں، رسد کے مسائل اور متعدد داخلی و خارجی عوامل اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس لیے ولایتی کے مؤقف کو ایک سیاسی اور جغرافیائی تناظر میں دیکھنا زیادہ مناسب ہوگا، نہ کہ اسے امریکی معیشت کی مکمل وضاحت سمجھا جائے۔

ولایتی نے اپنے بیان کو 19 اگست 1953 کے واقعات سے بھی جوڑا ہے، جنہیں ایران میں ’’28 مرداد‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ وزیراعظم محمد مصدق کی حکومت کے خاتمے میں امریکی اور برطانوی کردار ایرانی سیاسی تاریخ اور قومی یادداشت کا ایک اہم حصہ ہے۔ ایران کے نقطۂ نظر سے یہ تاریخی واقعہ آج بھی اس بحث میں حوالہ بنتا ہے کہ بڑی طاقتوں کی مداخلت کسی ملک کی داخلی سیاست اور علاقائی تعلقات پر کس قدر دیرپا اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

مگر 1953 اور آج کے عالمی حالات میں واضح فرق بھی موجود ہے۔ دنیا ایک ایسی کثیرالجہتی سمت میں آگے بڑھ چکی ہے جہاں چین ایک بڑی عالمی معاشی طاقت ہے، روس عالمی سیاست میں اہم کردار رکھتا ہے اور مشرق وسطیٰ کے متعدد ممالک اپنے قومی مفادات کے مطابق مختلف عالمی طاقتوں کے ساتھ متوازن تعلقات قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایران بھی کئی دہائیوں کی پابندیوں کے باوجود خطے کی سیاست میں ایک اہم فریق کے طور پر موجود ہے۔

ایسے حالات میں یہ سوال اہم ہو جاتا ہے کہ کیا مسلسل اقتصادی پابندیاں، سیاسی دباؤ اور فوجی دھمکیاں طویل المدتی طور پر مطلوبہ نتائج حاصل کر سکتی ہیں؟ اگر کسی پالیسی کے نتیجے میں توانائی کی قیمتیں بڑھیں، عالمی تجارت متاثر ہو اور عام شہریوں کے اخراجات میں اضافہ ہو تو متعلقہ حکومتوں کے لیے اس پالیسی کے فوائد اور نقصانات کا دوبارہ جائزہ لینا فطری امر ہے۔

یہ اصول ایران سمیت تمام متعلقہ فریقوں پر بھی یکساں طور پر لاگو ہوتا ہے۔ خطے میں کشیدگی کا مسلسل بڑھنا کسی کے مفاد میں نہیں۔ ایران کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کرے جو صورتحال کو مزید پیچیدہ بنائیں اور سفارتی ذرائع کو ترجیح دے۔ اسی طرح امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے بھی مذاکرات اور سفارت کاری کے راستے کھلے رکھنا زیادہ مفید ہو سکتا ہے۔

دنیا کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ طاقت کے ذریعے دوسرے ممالک کی سیاسی سمت تبدیل کرنے کی کوششیں اکثر فوری نتائج تو پیدا کر دیتی ہیں، مگر ان کے اثرات طویل عرصے تک جاری رہ سکتے ہیں۔ 1953 کے واقعات بھی اسی تاریخی بحث کا حصہ ہیں۔ آج عالمی برادری کو نئی محاذ آرائی کے بجائے ایسے سفارتی راستوں کی تلاش کرنی چاہیے جو اختلافات کو تصادم میں تبدیل ہونے سے روک سکیں۔

علی اکبر ولایتی کا یہ بیان اسی وسیع تر سوال کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ عالمی سیاست میں بڑے فیصلوں کی قیمت صرف حکومتیں نہیں چکاتیں۔ ان فیصلوں کے اثرات بالآخر عام شہریوں کے گھریلو بجٹ، توانائی کے بلوں، خوراک کی قیمتوں اور روزگار کے مواقع تک پہنچ سکتے ہیں۔

اگر واشنگٹن اپنے عوام کے معاشی مفادات کو مقدم رکھنا چاہتا ہے تو اسے ایران کے خلاف اپنی طویل المدتی پالیسی کے معاشی اور سیاسی نتائج کا مسلسل جائزہ لینا ہوگا۔ اسی طرح تہران کے لیے بھی سفارت کاری، مذاکرات اور علاقائی استحکام کے راستے کو ترجیح دینا زیادہ دانشمندانہ ہوگا۔

آخرکار طاقت کا اصل امتحان صرف یہ نہیں کہ کوئی ریاست اپنے مخالف پر کتنا دباؤ ڈال سکتی ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ اپنے عوام اور عالمی برادری کے لیے کتنی پائیدار، پرامن اور معاشی طور پر قابلِ عمل پالیسی اختیار کر سکتی ہے۔

Comments (0)
Add Comment