کراچی، 21 ستمبر: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے صوبے میں سات روزہ نیشنل پولیو ایریڈیکیشن مہم کا افتتاح کردیا، مہم کے دوران سندھ کے تمام 30 اضلاع میں 5 سال سے کم عمر تقریباً ایک کروڑ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے۔
مراد علی شاہ نے گلستان جوہر میں روٹری کلب کمیونٹی سینٹر میں بچوں کو پولیو کے قطرے پلا کر مہم کا آغاز کیا۔ مہم 21 سے 27 ستمبر تک جاری رہے گی، جس کے لیے 80 ہزار سے زائد تربیت یافتہ ویکسی نیٹرز، سوشل موبلائزرز اور سپروائزرز گھر گھر جاکر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائیں گے۔
مہم کے دوران سیکیورٹی کے لیے سندھ بھر میں 26 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، جن میں تقریباً 2300 خواتین پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔
اس موقع پر وزیراعلیٰ نے والدین، کمیونٹی رہنماؤں، مذہبی علما، منتخب نمائندوں، سول سوسائٹی اور میڈیا پر زور دیا کہ وہ ہر بچے تک پولیو ویکسین کی رسائی یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ دنیا میں پاکستان اور افغانستان وہ واحد دو ممالک رہ گئے ہیں جہاں پولیو وائرس اب بھی موجود ہے، تاہم پولیو کے خاتمے کے لیے نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وائرس کی مکمل منتقلی روکنے تک کوششیں جاری رکھنا ہوں گی۔
وزیراعلیٰ کے مطابق گزشتہ سال پاکستان میں پولیو کے 31 جبکہ افغانستان میں 21 کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔ رواں سال پاکستان میں اب تک 4 کیسز سامنے آئے ہیں جن میں ایک سندھ کے ضلع سجاول اور 3 خیبر پختونخوا سے ہیں، جبکہ افغانستان میں 29 کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ میں وائرس کی منتقلی روکنے کے حوالے سے ماحولیاتی نگرانی کے نتائج میں بہتری آئی ہے۔ ماحولیاتی نمونوں میں وائرس کی مثبت شرح جنوری 2026 میں 62 فیصد تھی جو اگست میں کم ہوکر 20 فیصد رہ گئی۔
انہوں نے بتایا کہ اگست میں وائرس کے 6 مثبت ماحولیاتی نمونے سامنے آئے جن میں 4 کراچی ڈویژن اور 2 حیدرآباد ڈویژن سے تھے، جبکہ ان دونوں ڈویژنوں سے باہر لیے گئے تمام نمونے منفی آئے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہدفی اور مربوط اقدامات کے ذریعے وائرس کی منتقلی مزید کم کی جاسکتی ہے، تاہم انسداد پولیو کی جنگ میں کسی قسم کی غفلت کی گنجائش نہیں۔ ہر غیر ویکسین شدہ بچہ وائرس کے پھیلاؤ کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ معیاری ویکسی نیشن مہمات اور مسلسل عزم برقرار رکھا جائے تو 2027 کے اختتام تک پولیو وائرس کی منتقلی روکنے کا ہدف حاصل کیا جاسکتا ہے۔
مراد علی شاہ نے روٹری کلب کمیونٹی سینٹر کے دورے کے دوران پولیو سے متاثرہ بچوں کے لیے قائم مصنوعی اعضا اور فزیوتھراپی یونٹس کا بھی معائنہ کیا۔ انہوں نے بحالی کی سہولیات کا جائزہ لیا اور پولیو سے متاثرہ بچوں سے ملاقات کی۔
وزیراعلیٰ کی ملاقات پولیو ورکر حما سے بھی ہوئی جن کی دونوں ٹانگیں پولیو کے باعث متاثر ہوئیں۔ روٹری انٹرنیشنل کے نمائندے عزیز میمن نے بتایا کہ ادارے نے حما کو مصنوعی ٹانگوں کی فراہمی میں معاونت کی ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ وہ انسداد پولیو مہم کا خود افتتاح کرتے ہیں تاکہ اس اہم قومی مقصد کے لیے حکومت کے عزم کا اظہار ہو۔ انہوں نے گیٹس فاؤنڈیشن، یونیسیف اور روٹری انٹرنیشنل سمیت دیگر قومی و عالمی شراکت داروں کے تعاون کو بھی سراہا۔
مراد علی شاہ نے بتایا کہ رواں سال سندھ میں پولیو کا واحد کیس فروری میں سجاول سے رپورٹ ہوا تھا اور محکمہ صحت کی کوششوں کے نتیجے میں وائرس کی منتقلی میں کمی آئی ہے۔ انہوں نے پولیو ورکرز کے معاوضے میں 28 فیصد اضافے کا بھی بتایا۔
وزیراعلیٰ نے والدین پر زور دیا کہ مہم کے دوران 5 سال سے کم عمر ہر بچے کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے ضرور پلوائیں۔ انہوں نے مذہبی علما، ارکان اسمبلی، صحافیوں، سول سوسائٹی اور میڈیا اداروں سے بھی اپیل کی کہ ویکسی نیشن سے متعلق غلط معلومات اور پراپیگنڈے کے تدارک کے لیے عوامی آگاہی میں کردار ادا کریں۔
سندھ کے 23 اضلاع میں مہم کے تحت مکمل کوریج فراہم کی جائے گی جبکہ 7 اضلاع میں پروگرام کی ضروریات کے مطابق جزوی کوریج ہوگی۔