گورنر خیبرپختونخوا: دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پولیس ہراول دستہ، جدید وسائل اور ٹیکنالوجی ناگزیر ہیں

پشاور (21 اگست): نیشنل پولیس اکیڈمی میں زیرِ تربیت سندھ پولیس کے 33 ڈی ایس پیز پر مشتمل وفد نے کورس کمانڈر محمد اورنگزیب کی قیادت میں گورنر ہاؤس پشاور کا مطالعاتی دورہ کیا، جہاں گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وفد کے ساتھ انٹرایکٹو سیشن میں گفتگو کی۔

گورنر نے سندھ پولیس کے افسران کو خیبرپختونخوا اور گورنر ہاؤس آمد پر خوش آمدید کہتے ہوئے پولیس میں خواتین افسران کی بھرپور شمولیت کو خوش آئند قرار دیا۔

فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں پولیسنگ دیگر صوبوں کے مقابلے میں مختلف نوعیت کے چیلنجز رکھتی ہے اور دہشتگردی پولیس کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ خیبرپختونخوا پولیس دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ہراول دستے کا کردار ادا کررہی ہے، تاہم اسے جدید اسلحے، بلٹ پروف گاڑیوں اور جدید ٹیکنالوجی سمیت مزید وسائل کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ طویل سرحد کے باعث صوبے کو متعدد سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے، جبکہ پاک فوج اور فرنٹیئر کور سرحدوں کے دفاع اور سیکیورٹی کے لیے اہم خدمات انجام دے رہی ہیں۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں فوج، ایف سی، پولیس اور تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھرپور سپورٹ فراہم کرنا ہوگی۔

گورنر نے کہا کہ خیبرپختونخوا پولیس کو دہشتگردوں کے کواڈکاپٹر حملوں کا بھی سامنا ہے، اس لیے ایسے حملوں سے نمٹنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور مؤثر آلات فراہم کرنا ضروری ہیں۔ انہوں نے پولیس اہلکاروں کی تنخواہوں میں بہتری کے لیے صوبائی حکومت کو سفارشات بھجوانے کا بھی بتایا۔

افغانستان سے پاکستان کے خلاف ہونے والی دہشتگردی کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے گورنر نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے بعض واقعات میں افغان شہریوں کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئے ہیں، جبکہ غیر قانونی افغان شہریوں کی وطن واپسی کا عمل جاری ہے۔

فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں سستی بجلی، تیل، گیس اور معدنیات کے وسیع ذخائر موجود ہیں، جبکہ سیاحت اور مذہبی سیاحت کے بھی بڑے مواقع ہیں۔ صوبے میں امن قائم ہونے سے ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ مل سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ضم شدہ اضلاع سے متعلق مالی وعدے مکمل طور پر پورے نہیں کیے گئے اور سالانہ 100 ارب روپے کی فراہمی کا وعدہ بھی پورا نہیں ہوا، جس کے باعث وہاں ترقیاتی ضروریات پوری کرنے میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔

صحت اور تعلیم کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے گورنر نے صوبے میں نئے بڑے اسپتالوں، کھیلوں کی سہولیات اور تعلیمی نظام میں بہتری کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹیوں میں سیاسی بنیادوں پر بھرتیوں نے تعلیمی نظام کو نقصان پہنچایا ہے۔

گورنر نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ سال بھارتی جارحیت کا بھرپور اور مؤثر جواب دیا، جبکہ خطے میں امن کے لیے سول اور عسکری قیادت نے مؤثر کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے کردار کو عالمی سطح پر بھی سراہا گیا ہے۔

کورس کمانڈر محمد اورنگزیب نے گورنر کو بتایا کہ سندھ پولیس کے ڈی ایس پیز کا یہ پہلا قومی مطالعاتی دورہ ہے۔ انہوں نے وفد کو ملاقات کا موقع فراہم کرنے پر گورنر کا شکریہ ادا کیا۔

Comments (0)
Add Comment