وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر رانا احسان افضل کی چینی وفد سے ملاقات، ترقیاتی تعاون بڑھانے پر غور

اسلام آباد، 22 ستمبر: وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے تجارت، صنعت و پیداوار رانا احسان افضل خان نے چین کے انٹرنیشنل سینٹر فار اکنامک اینڈ ٹیکنیکل ایکسچینجز (CICETE) کے اعلیٰ سطحی وفد سے ملاقات کی، جس میں پاکستان اور چین کے درمیان ترقیاتی تعاون کو مزید وسعت دینے اور جاری منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

چینی وفد کی قیادت وزارت تجارت عوامی جمہوریہ چین کے CICETE کی ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل لی شوئن نے کی۔ اجلاس میں وزارت تجارت کے ایڈیشنل سیکریٹری ٹریڈ ڈپلومیسی ناصر حمید اور اسلام آباد میں چینی سفارتخانے کے نمائندے بھی شریک ہوئے۔

ملاقات کے دوران پاکستان میں چینی ترقیاتی تعاون کا جائزہ لیا گیا اور پاکستان کی ترقیاتی ترجیحات سے متعلق جاری اور مستقبل کے منصوبوں کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔

چینی وفد نے ترقیاتی تعاون کے منصوبوں پر عمل درآمد کے لیے حکومت پاکستان اور متعلقہ اداروں کی جانب سے فراہم کردہ تعاون اور سہولت کاری کو سراہا۔

رانا احسان افضل خان نے پاکستان کے ساتھ CICETE کے دیرینہ تعاون کا خیرمقدم کرتے ہوئے ملک بھر میں ترقیاتی معاونت اور کمیونٹی پر مبنی منصوبوں میں اس کے کردار کو سراہا، بالخصوص بلوچستان میں اس کی کاوشوں کو قابل قدر قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ CICETE نے مقامی آبادی اور ترقیاتی اہداف کی معاونت کرنے والے اقدامات کے ذریعے پاکستان میں اہم موجودگی قائم کی ہے اور مسلسل تعاون پاکستان چین تعلقات کی عملی جہت کو مزید مضبوط بنا سکتا ہے۔

ملاقات میں مادی معاونت اور تعمیراتی منصوبوں کے ساتھ ساتھ پاکستان کی ترقیاتی ترجیحات سے ہم آہنگ شعبوں میں چینی مہارت، ٹیکنالوجی اور وسائل سے استفادہ کرنے کے مواقع پر بھی گفتگو کی گئی۔

وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر نے منصوبوں پر بروقت عمل درآمد، مقامی استعداد کار بڑھانے اور باہمی مفاد کے نئے شعبوں کی نشاندہی کے لیے پاکستان اور چین کے درمیان مسلسل ادارہ جاتی روابط کی اہمیت پر زور دیا۔

انہوں نے پاکستان چین اسٹریٹجک شراکت داری کے وسیع تر فریم ورک کے تحت ترقیاتی تعاون کو مضبوط بنانے میں CICETE اور چینی فریق کے کردار کو سراہا۔

ملاقات کے اختتام پر دونوں جانب سے جاری منصوبوں اور مزید تعاون کے ممکنہ شعبوں پر تبادلہ خیال کیا گیا اور عملی و باہمی مفاد پر مبنی ترقیاتی تعاون کو آگے بڑھانے میں دلچسپی کا اعادہ کیا گیا۔

Comments (0)
Add Comment