گلگت بلتستان میں سات گھی مصنوعات پر پابندی، خیبرپختونخوا میں تیاری اور ترسیل پر سوالات

گلگت/پشاور: گلگت بلتستان حکومت کے محکمہ خوراک نے لیبارٹری رپورٹس کی بنیاد پر سات بناسپتی گھی اور خوردنی تیل کی مصنوعات کو انسانی استعمال کے لیے غیر محفوظ قرار دیتے ہوئے ان کی خرید و فروخت، ذخیرہ، ترسیل، فراہمی اور استعمال پر فوری پابندی عائد کردی ہے۔

27 اگست 2026 کو جاری ہنگامی حکم نامے کے مطابق منظور شدہ سرکاری لیبارٹری کی رپورٹس میں جیو بناسپتی، سپر زمان بناسپتی، ڈائمنڈ بناسپتی، عثمان بناسپتی، میدان بناسپتی، زرشان بناسپتی گھی اور ادیبہ بناسپتی کو انسانی استعمال کے لیے غیر محفوظ قرار دیا گیا۔

حکم نامے میں درج معلومات کے مطابق جیو بناسپتی راوت آئل اینڈ گھی ملز، انڈسٹریل اسٹیٹ اسلام آباد، سپر زمان بناسپتی زمان ایڈیبل آئلز اینڈ گھی انڈسٹریز، ڈائمنڈ بناسپتی ڈائمنڈ گھی اینڈ آئل ملز، ملاکنڈ، عثمان بناسپتی سیب رضا آئل اینڈ گھی انڈسٹریز، ملاکنڈ، میدان بناسپتی میدان گھی اینڈ آئل ملز، سوات، زرشان بناسپتی گھی الحَماد آئل انڈسٹری جبکہ ادیبہ بناسپتی حماد اسماعیل آئل اینڈ گھی سے منسوب ہے۔

سرکاری حکم نامے کے بعد ایک اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر مذکورہ مصنوعات سرکاری لیبارٹری کی رپورٹ میں انسانی استعمال کے لیے غیر محفوظ قرار دی گئی ہیں تو ان کی تیاری، مارکیٹ تک رسائی اور بین الصوبائی ترسیل کے نظام کی نگرانی کس ادارے کی ذمہ داری ہے؟

بالخصوص ملاکنڈ اور سوات سمیت خیبرپختونخوا میں درج مینوفیکچرنگ یونٹس کے حوالے سے خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی حکام سے یہ جاننا ضروری ہے کہ ان مصنوعات کے معیار کی جانچ کب اور کتنی مرتبہ کی گئی، جبکہ ان کی ترسیل دوسرے علاقوں تک کس طریقہ کار کے تحت ہوتی ہے۔

تاہم گلگت بلتستان کے حکم نامے سے یہ خودبخود ثابت نہیں ہوتا کہ مذکورہ مصنوعات غیر قانونی طور پر خیبرپختونخوا سے منتقل کی جارہی ہیں۔ اس معاملے کی حقیقت جاننے کے لیے متعلقہ اداروں کی مشترکہ تحقیقات، تازہ نمونہ جات اور ترسیلی ریکارڈ کی جانچ ضروری ہے۔

یہ معاملہ محض کاروباری ضابطے کی خلاف ورزی کا نہیں بلکہ عوامی صحت کا سنگین سوال ہے۔ ایک عام شہری اپنی محنت کی کمائی سے خوراک خریدتا ہے اور اسے یہ حق حاصل ہے کہ اسے محفوظ اور معیاری غذا فراہم کی جائے۔ اگر کوئی خوراک انسانی استعمال کے لیے غیر محفوظ ثابت ہوتی ہے تو اس کی تیاری اور مارکیٹ میں رسائی کے پورے نظام کا احتساب ناگزیر ہے۔

عوام کا پیسہ بیماری خریدنے کے لیے نہیں؛ خوراک کے نام پر انسانی صحت سے کھیلنے کی کسی کو اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

Comments (0)
Add Comment