کوئٹہ میں مہنگے داموں آٹا فروخت کرنے پر 18 افراد گرفتار

کوئٹہ، 10 ستمبر: ضلعی انتظامیہ کوئٹہ نے سرکاری نرخ سے زائد قیمت پر آٹا فروخت کرنے والوں کے خلاف کارروائیاں کرتے ہوئے مختلف علاقوں سے مجموعی طور پر 18 افراد کو گرفتار کر لیا۔

ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کے احکامات اور عوامی شکایات پر اسسٹنٹ کمشنر سریاب مصور احمد کی ٹیم نے سیٹلائٹ ٹاؤن کے علاقے میں آٹا ڈیلرز، ریٹیلرز اور مختلف دکانوں کا معائنہ کیا۔ کارروائی کے دوران سرکاری نرخ نامے کے مطابق آٹے کی قیمتوں کا جائزہ لیا گیا اور مقررہ نرخ سے زائد قیمت پر آٹا فروخت کرنے والے 7 افراد کو گرفتار کیا گیا۔

دوسری جانب ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کے احکامات پر اسسٹنٹ کمشنر سٹی محمد امیر حمزہ اور اسسٹنٹ کمشنر صدر محمد یوسف ہاشمی کی نگرانی میں صدر سب ڈویژن کے مختلف علاقوں میں بھی کارروائی کی گئی۔

اس دوران آٹا ڈیلرز، ریٹیلرز اور مختلف دکانوں کا معائنہ کیا گیا جبکہ سرکاری نرخ ناموں کی جانچ کی گئی۔ مقررہ نرخ سے زائد قیمت پر آٹا فروخت کرنے اور سرکاری نرخ نامے کی خلاف ورزی پر مزید 11 افراد کو گرفتار کرلیا گیا۔

ضلعی انتظامیہ کے مطابق دونوں کارروائیوں میں مجموعی طور پر 18 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، جبکہ سرکاری نرخوں کی خلاف ورزی کرنے والے دیگر دکانداروں کے خلاف بھی کارروائی جاری رہے گی۔

انتظامیہ نے تمام تاجروں کو ہدایت کی ہے کہ سرکاری نرخ نامہ نمایاں جگہ پر آویزاں کریں اور آٹا سمیت تمام اشیائے ضروریہ مقررہ نرخوں پر فروخت کریں۔

ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا کہ عوامی شکایات کی بنیاد پر ناجائز منافع خوری، مصنوعی مہنگائی اور صارفین کے استحصال کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی اور سرکاری نرخ نامے کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔

Comments (0)
Add Comment