وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کے محفوظ اور قانونی تعمیرات کے وژن اور ایڈمنسٹریٹر میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ بشیر احمد بڑیچ کی ہدایات پر شہر میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کردی گئی ہیں۔
چیف آرکیٹیکٹ میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ اشفاق بادینی اور میٹروپولیٹن مجسٹریٹ (بلڈنگز) نوید بلوچ کی سربراہی میں نیو سبزل روڈ (سی پیک روڈ) اور اے ون سٹی میں کارروائی کی گئی۔
میٹروپولیٹن کارپوریشن کے مطابق کارروائی کے دوران منظوری اور این او سی کے بغیر یا بلڈنگ کنٹرول قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تعمیر کی جانے والی 11 عمارتوں، پلازوں اور دکانوں کو سیل جبکہ 7 افراد کو گرفتار کرلیا گیا۔ غیر قانونی تعمیرات کے بعض حصے بھی مسمار کیے گئے۔
کارروائی کے دوران زرغون اور چلتن زون کے مانیٹرنگ سپروائزرز بھی موجود تھے۔
واضح رہے کہ نیو سبزل روڈ، جسے سی پیک روڈ بھی کہا جاتا ہے، کمشنر کوئٹہ ڈویژن کی جانب سے نو کنسٹرکشن زون قرار دیا جاچکا ہے، جہاں نئی تعمیر کی اجازت نہیں ہے۔
میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ نے شہریوں اور بلڈرز سے اپیل کی ہے کہ تعمیر شروع کرنے سے قبل تمام ضروری دستاویزات اور قانونی تقاضے مکمل کیے جائیں اور رہنمائی کے لیے متعلقہ دفتر سے رجوع کیا جائے۔
کارپوریشن نے واضح کیا کہ قانونی تعمیرات میں شہریوں کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے گی، تاہم منظوری کے بغیر تعمیر، بلڈنگ کنٹرول قوانین کی خلاف ورزی یا نو کنسٹرکشن زون میں تعمیر کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہوگی اور خلاف ورزی پر بلاامتیاز قانونی کارروائی جاری رہے گی۔