کوئٹہ، 17 ستمبر: گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے کہا ہے کہ ملک بھر میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے شعبے میں 10 لاکھ ماہرین تیار کرنے ہوں گے، اس قومی ہدف کے حصول کے لیے پبلک سیکٹر کی جامعات کے وائس چانسلرز کو کلیدی اور فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔
سردار بہادر خان وویمن یونیورسٹی کے سولہویں سینیٹ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے گورنر بلوچستان نے کہا کہ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر روبینہ مشتاق اور ان کی ٹیم کی کاوشیں قابل تحسین ہیں، تاہم یونیورسٹی کو پاکستان کی نمایاں جامعات میں شامل کرنے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ معیاری تعلیم کے ساتھ جدید تقاضوں سے ہم آہنگ مہارتوں کی ترقی پر خصوصی توجہ دی جائے تاکہ طالبات معاشی اور معاشرتی ترقی میں مؤثر کردار ادا کرنے کے قابل بن سکیں۔ انہوں نے یونیورسٹی کے تمام امور میں میرٹ کی پاسداری یقینی بنانے پر بھی زور دیا۔
گورنر نے کہا کہ وویمن یونیورسٹی کی رینکنگ اور اسکورنگ میں مسلسل بہتری خوش آئند ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت سردار بہادر خان وویمن یونیورسٹی کے خضدار، پشین اور نوشکی کیمپسز میں ان تمام کنٹریکٹ ملازمین کو ریگولرائز کیا جائے گا جن کی بھرتی مقررہ قانونی تقاضوں اور ضوابط کے مطابق ہوئی اور جو تاحال خدمات انجام دے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ریگولرائزیشن سے قبل ملازمین کی دستاویزات اور دیگر مطلوبہ کوائف کی مکمل تصدیق کے لیے خصوصی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔
اجلاس میں بلوچستان ہائی کورٹ کے جسٹس عامر رانا، صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی، رکن صوبائی اسمبلی کلثوم نیاز بلوچ، صوبائی سیکرٹری ہائر ایجوکیشن ہاشم خان غلزئی، ہائر ایجوکیشن کمیشن کی سینئر عہدیدار ڈاکٹر نور آمنہ ملک، قومی کمیشن برائے وقار نسواں کی چیئرپرسن نورین بانو لہڑی، پرنسپل سیکرٹری ٹو گورنر بلوچستان عبدالناصر دوتانی اور دیگر سینیٹ اراکین شریک ہوئے۔
اجلاس میں شرکاء کی تجاویز اور سفارشات کی روشنی میں متعدد اہم فیصلے بھی کیے گئے۔