اسلام آباد (22 اگست): گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ افغان میڈیکل یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل پاکستانی طلبہ کو درپیش مشکلات کے حل کے لیے ہر ممکن آئینی و قانونی معاونت فراہم کی جائے گی اور معاملہ متعلقہ فورم پر اٹھایا جائے گا۔
انہوں نے یہ بات اسلام آباد میں متاثرہ طلبہ کے نمائندہ وفد سے ملاقات کے دوران کہی۔ وفد میں ڈاکٹر آصف آفریدی، ڈاکٹر وقاص اکبر، ڈاکٹر آصف نبی اور ڈاکٹر ثمر شامل تھے۔
وفد نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل سے متعلق مسائل سے گورنر کو آگاہ کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے داخلے کے وقت متعلقہ افغان میڈیکل یونیورسٹیاں کونسل سے تسلیم شدہ تھیں اور انہوں نے اس وقت نافذ پالیسیوں کے مطابق داخلے حاصل کیے تھے۔ تاہم بعد میں پالیسی میں کی جانے والی تبدیلیوں کا اطلاق پہلے سے زیر تعلیم طلبہ اور فارغ التحصیل افراد پر بھی کیا جارہا ہے، جس کے باعث انہیں مشکلات کا سامنا ہے۔
وفد نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ ان کے معاملے سے متعلق بعض معلومات مکمل حقائق کی عکاسی نہیں کرتیں۔
گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ نوجوان ملک کا قیمتی سرمایہ ہیں اور ان کے مسائل کا حل اور مشکلات کا ازالہ اجتماعی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ گریجویٹس کے مسائل متعلقہ فورم پر اٹھائے جائیں گے اور دستیاب آئینی و قانونی دائرہ کار میں ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔
گورنر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل اور دیگر ذمہ دار اداروں سے رابطہ کرکے طلبہ کے جائز مسائل کے حل کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ وفد نے مسائل سننے اور تعاون کی یقین دہانی پر گورنر کا شکریہ ادا کیا۔