جیکب آباد کے تھانہ اے سیکشن کی حدود حق باہو محلہ میں شادی کے روز مایوں بیٹھی یتیم دلہن کے مبینہ اغوا کا واقعہ پیش آیا ہے۔ اہلخانہ نے مسلح افراد پر اغوا کا الزام عائد کیا ہے، جبکہ پولیس نے واقعے کی اطلاع ملنے کی تصدیق کرتے ہوئے لڑکی کی تلاش اور مختلف پہلوؤں سے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
مغویہ کی شناخت مریم دختر فیض محمد چنو کے نام سے ہوئی ہے۔ اس کے بھائی ذاکر چنو کے مطابق حسین برڑو اور اس کے دیگر مسلح ساتھی مبینہ طور پر گھر میں داخل ہوئے، اہلخانہ کو تشدد کا نشانہ بنایا اور مریم کو اپنے ساتھ لے گئے۔
ذاکر چنو کا کہنا ہے کہ مبینہ مسلح افراد نے گھر میں موجود افراد کے ہاتھ پاؤں باندھے اور بعد ازاں مریم کو لے کر فرار ہوگئے۔ تاہم ان الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
اہلخانہ کے مطابق مریم کی شادی اسی روز دیدار چنو سے طے تھی اور وہ شادی کی تقریبات کے سلسلے میں مایوں بیٹھی ہوئی تھی۔ واقعے کی اطلاع پولیس کو دے دی گئی ہے۔
مغویہ کے بھائی نے آئی جی سندھ اور ایس ایس پی جیکب آباد سے لڑکی کی فوری اور بحفاظت بازیابی اور واقعے میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق واقعے کی اطلاع موصول ہو چکی ہے اور لڑکی کی تلاش جاری ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے محرکات سمیت مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کی جا رہی ہیں اور حقائق سامنے آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔