کوئٹہ: وزیر صحت بلوچستان بخت محمد کاکڑ کی زیر صدارت کوئٹہ ڈسٹرکٹ کے تمام سرکاری ہسپتالوں اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفس کے انسانی وسائل کی اے آئی فرمز کے ذریعے ریکارڈ کی جانے والی حاضری کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں اسپیشل سیکریٹری صحت شہیک بلوچ، ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز بلوچستان ڈاکٹر امین مندوخیل، کوئٹہ کے تمام ہسپتالوں کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹس، چیف ایگزیکٹو آفیسرز، ایگزیکٹو ڈائریکٹرز، پرنسپل بولان میڈیکل کالج اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران بلوچستان ہیلتھ انفارمیشن اینڈ سروس ڈیلیوری یونٹ کے صوبائی کوآرڈینیٹر ڈاکٹر ابابگر بلوچ نے ڈیجیٹل نظام کے ذریعے مرتب کردہ حاضری، غیر حاضری اور ادارہ جاتی تعمیل سے متعلق جامع رپورٹ پیش کی، جس میں مختلف ہسپتالوں اور دفاتر کی کارکردگی کا تقابلی جائزہ بھی شامل تھا۔
وزیر صحت نے غیر حاضر ملازمین اور باقاعدگی سے ڈیجیٹل نظام پر حاضری درج نہ کرنے والے اہلکاروں کے خلاف بلاامتیاز سخت کارروائی کی ہدایت کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ تصدیق شدہ ڈیجیٹل حاضری کے بغیر کسی ملازم کی تنخواہ جاری نہ کی جائے۔
بخت محمد کاکڑ نے کہا کہ سرکاری ہسپتالوں میں طبی عملے کی بروقت موجودگی، مؤثر نگرانی اور عوام کو بلاتعطل طبی سہولیات کی فراہمی حکومت بلوچستان کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے تمام اداروں کے سربراہان کو ڈیجیٹل حاضری کے نظام پر سو فیصد عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ عدم تعمیل کی صورت میں متعلقہ انتظامی افسر کی ذمہ داری بھی متعین کی جائے گی۔