کراچی: وزیراعظم ٹاسک فورس برائے بحری امور کی جانب سے میری ٹائم شعبے میں کی جانے والی مؤثر اصلاحات کے مثبت نتائج سامنے آنے لگے ہیں، جن کے باعث کراچی پورٹ اور پورٹ قاسم کی عالمی درجہ بندی میں نمایاں بہتری ریکارڈ کی گئی ہے، جبکہ بندرگاہی محصولات، ٹیکس وصولیوں اور کسٹمز نظام میں بھی مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔
حکام کے مطابق اصلاحات کے نتیجے میں کراچی پورٹ کی عالمی رینکنگ ایک سال کے دوران 99ویں پوزیشن سے بہتر ہو کر 69ویں پوزیشن پر پہنچ گئی، جبکہ پورٹ قاسم کی عالمی درجہ بندی 74ویں سے بہتر ہو کر 56ویں پوزیشن پر آ گئی۔ یوں ایک سال کے دوران کراچی پورٹ کی عالمی رینکنگ میں 30 درجے جبکہ پورٹ قاسم کی رینکنگ میں 18 درجے بہتری ریکارڈ کی گئی۔
کراچی پورٹ اور پورٹ قاسم سالانہ 100 ملین ٹن سے زائد کارگو سنبھالنے کی مجموعی صلاحیت رکھتے ہیں، جس کے باعث دونوں بندرگاہیں پاکستان کی بحری تجارت، درآمدات و برآمدات اور علاقائی لاجسٹکس میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
میری ٹائم اصلاحات کے نتیجے میں اشیا کے گوشواروں سے حاصل ہونے والی آمدنی میں 16 فیصد جبکہ انکم ٹیکس وصولیوں میں 14 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اسی طرح برقی قانونی محصولات میں 105 فیصد نمایاں اضافہ ہوا، جسے بحری شعبے میں اصلاحات اور نظام کو جدید بنانے کے اقدامات کا اہم نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔
حکام کے مطابق جدید بندرگاہی سہولیات، تیز رفتار کسٹمز کلیئرنس، یکساں بندرگاہی محصولات اور بہتر لاجسٹکس نظام پاکستان کو خطے میں ایک اہم بحری نقل و حمل اور سامان کی منتقلی کے مرکز کے طور پر مستحکم کرنے میں مدد دے رہے ہیں۔
میری ٹائم شعبے میں اصلاحات کے تحت جہاز سازی کے خام مال اور جہازوں کی خریداری پر سیلز ٹیکس کے خاتمے کو بھی مقامی جہاز سازی کی صنعت کے فروغ کے لیے اہم اقدام قرار دیا گیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ نئی بندرگاہوں کی ترقی، کسٹمز کے تیز تر نظام، یکساں بندرگاہی محصولات اور بہتر لاجسٹکس سے مقامی جہاز سازی اور بحری صنعت کے لیے سازگار ماحول پیدا ہو رہا ہے، جس سے مستقبل میں پاکستان کی بحری تجارت اور شپ بلڈنگ کی صلاحیت مزید مستحکم ہونے کی توقع ہے۔