بشکیک، یکم ستمبر 2026: روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) دنیا کی سب سے بڑی اور بااثر علاقائی تنظیموں میں سے ایک بن چکی ہے۔ انہوں نے رکن ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور توانائی کے شعبوں میں تعاون مزید گہرا کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مسلح تنازعات کو عالمی معاملات کا معمول بننے سے روکنا ضروری ہے۔
بشکیک میں ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پیوٹن نے کہا کہ 2001 میں روس، چین، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان اور ازبکستان کی جانب سے قائم کی گئی تنظیم گزشتہ برسوں کے دوران نمایاں تبدیلی سے گزری ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ 25 برسوں میں ایس سی او مسلسل مضبوط اور وسیع ہوئی ہے اور اب ابھرتی ہوئی کثیر قطبی دنیا میں ایک خودمختار اور بااثر مرکز کی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔
روسی صدر کے مطابق ایس سی او کے رکن ممالک اب دنیا کی تقریباً نصف آبادی اور عالمی جی ڈی پی کے ایک تہائی سے زیادہ حصے کی نمائندگی کرتے ہیں، جس سے یہ نہ صرف یوریشیا بلکہ عالمی سطح پر بھی سب سے بڑی علاقائی تنظیم بن گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سیاست، معیشت اور انسانی شعبوں میں ایس سی او ممالک کا باہمی تعاون رکن ریاستوں کی پائیدار ترقی میں معاون ثابت ہو رہا ہے، جبکہ پورے یوریشیا میں امن، استحکام، اعتماد اور تعاون کے فروغ میں بھی کردار ادا کر رہا ہے۔
پیوٹن نے اعتماد ظاہر کیا کہ سربراہی اجلاس میں منظوری کے لیے تیار کیے گئے فیصلوں کا پیکیج تنظیم کے اندر تعاون کو نئی رفتار دے گا۔
معاشی ترجیحات کا ذکر کرتے ہوئے روسی صدر نے ایس سی او رکن ممالک کے درمیان تجارتی روابط مزید وسیع کرنے پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ تجارت اور سرمایہ کاری کے مضبوط تعلقات معاشی ترقی اور عوام کے معیارِ زندگی میں بہتری کا باعث بنیں گے۔
انہوں نے کہا کہ 2025 میں ایس سی او ممالک کے ساتھ روس کی تجارت 400 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی، جبکہ رکن ممالک باہمی لین دین میں قومی کرنسیوں کا استعمال بھی مسلسل بڑھا رہے ہیں۔ روس کے ایس سی او ممالک کے ساتھ مالی تصفیوں میں قومی کرنسیوں کا حصہ اب 98 فیصد سے زیادہ ہو چکا ہے۔
پیوٹن نے مشترکہ اقتصادی منصوبوں پر عمل درآمد میں ایس سی او بزنس کونسل اور انٹربینک کنسورشیم کے کردار کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ مستقبل میں مجوزہ ایس سی او ڈیولپمنٹ بینک بھی ان کوششوں میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ بینک ان ممالک کے مالیاتی نظام سے ممکنہ حد تک آزاد ہونا چاہیے جو، ان کے بقول، عالمی معاملات میں یکطرفہ فوائد حاصل کرنے کے لیے اقتصادی ذرائع کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں تعاون پر بات کرتے ہوئے پیوٹن نے کہا کہ ایس سی او ممالک 2030 تک کی ایس سی او انرجی کوآپریشن اسٹریٹجی کے مطابق مربوط اور متوازن پالیسی اختیار کرنے میں مشترکہ دلچسپی رکھتے ہیں۔
انہوں نے ثقافتی اور انسانی شعبوں میں بڑھتے ہوئے تعاون کا بھی ذکر کیا، جس میں تعلیم، صحت، ماحولیاتی تحفظ، سائنس اور نوجوانوں کے تبادلے شامل ہیں۔
روسی صدر نے کہا کہ ایس سی او یونیورسٹی اب رکن ممالک کی 100 سے زائد جامعات کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر رہی ہے، جبکہ تنظیم کے تحت منعقد ہونے والے خواتین فورمز کا مقصد عوامی، سیاسی، کاروباری اور سماجی زندگی میں خواتین کی شرکت کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
کرغزستان میں جاری ورلڈ نومیڈ گیمز کا ذکر کرتے ہوئے پیوٹن نے کہا کہ روس سمیت متعدد ایس سی او ممالک کے نمائندے ان کھیلوں میں شریک ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس 2028 میں کازان میں آئندہ ورلڈ نومیڈ گیمز کی میزبانی کے لیے تیار ہے اور دلچسپی رکھنے والے ممالک کی ٹیموں کا خیرمقدم کرے گا۔
پیوٹن نے ایس سی او ممالک کے ثقافتی اور فنون لطیفہ سے وابستہ نمائندوں کو ستمبر کے آخر میں سینٹ پیٹرزبرگ میں ہونے والے انٹرنیشنل یونائیٹڈ کلچرز فورم میں شرکت کی دعوت بھی دی۔
انہوں نے کہا کہ بشکیک میں ہونے والا تعاون ایس سی او کی وسیع تر شراکت داری کو آگے بڑھانے میں مدد دے گا، جس کا مقصد یوریشیا میں سلامتی، پُرامن ترقی اور خوشحالی کو فروغ دینا ہے۔
اپنے خطاب کے اختتام پر روسی صدر نے کہا کہ یکم ستمبر دوسری عالمی جنگ کے آغاز کا دن ہے اور تمام ممالک کو اس بات کے لیے ہر ممکن کوشش کرنا ہوگی کہ جان بوجھ کر مسلح تنازعات کو ہوا دینا بین الاقوامی معاملات میں قابلِ قبول معمول نہ بن جائے۔
پیوٹن نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم کی سرگرمیاں اس مقصد کے حصول میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔