Daily azad
Daily azad breaking news urd newspaper quetta

احسن اقبال کا مسلم امہ کو خود احتسابی اور اپنی شناخت کی بحالی پر زور

لاہور: وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے مسلم امہ کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے اور کھوئی ہوئی قوت بحال کرنے کے لیے اجتماعی خود احتسابی، اپنی شناخت کے شعور اور سیرت النبی ﷺ کی تعلیمات کو عملی زندگی کا حصہ بنانے پر زور دیا ہے۔

لاہور میں نثار فاطمہ انسٹی ٹیوٹ فار سیرت اینڈ ویمن اسٹڈیز کے زیر اہتمام نیشنل ویمن سیرت کانفرنس 2026 سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ سیرت النبی ﷺ مسلم امہ کے لیے رہنمائی کا سب سے بڑا سرچشمہ اور زندگی کے انفرادی و اجتماعی معاملات کے لیے بہترین نمونہ ہے۔

کانفرنس ’’سیرت النبی ﷺ کی روشنی میں اسلامی نشاۃ ثانیہ میں مسلم خواتین کا کردار‘‘ کے موضوع پر منعقد ہوئی۔

احسن اقبال نے کہا کہ مسلم دنیا اس وقت ایک انتہائی تشویش ناک دور سے گزر رہی ہے اور مختلف خطوں میں مسلمانوں کو سنگین حالات کا سامنا ہے، جبکہ فلسطینی عوام کی مسلسل مشکلات اور مصائب اس صورتحال کی واضح مثال ہیں۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات صرف تشویش کے اظہار کے متقاضی نہیں بلکہ مسلم امہ کو اپنی کمزوریوں کا سنجیدگی سے جائزہ لینے اور اجتماعی خود احتسابی کی ضرورت ہے۔ مسلمانوں کو یہ طے کرنا ہوگا کہ زوال اور کمزوری سے نکل کر ترقی اور قوت کی جانب کیسے بڑھا جاسکتا ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ مسلم امہ اپنی کھوئی ہوئی قوت اس وقت تک حاصل نہیں کرسکتی جب تک اسے اپنی شناخت، اقدار اور اجتماعی ذمہ داریوں کا پختہ شعور نہ ہو۔ اپنی شناخت کا واضح احساس ہی امت میں اعتماد، اتحاد اور اجتماعی قوت پیدا کرسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ تہذیبوں کے عروج کے لیے شناخت اور مقصد کا واضح شعور بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ جب کوئی تہذیب اپنی شناخت سے محروم ہوجاتی ہے تو دوسروں کی نقالی اختیار کرنے لگتی ہے اور رفتہ رفتہ اپنا تشخص کھو دیتی ہے، جبکہ مقصد سے دوری معاشرے کو انتشار اور محدود مادی مفادات کا شکار کردیتی ہے۔

احسن اقبال نے کہا کہ مسلم امہ کو اپنی شناخت کے شعور کی تجدید کے ساتھ اس مقصد کی طرف بھی رجوع کرنا ہوگا جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے متعین کیا ہے۔ سیرت النبی ﷺ سے حقیقی رہنمائی کا تقاضا ہے کہ عقیدت اور وابستگی کو محض زبانی اظہار تک محدود رکھنے کے بجائے اس کی تعلیمات کو کردار، معاشرت اور اجتماعی طرز عمل میں نمایاں کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ علم، عدل، اتحاد، نظم و ضبط، ہمدردی اور ذمہ داری وہ بنیادی اقدار ہیں جنہیں سیرت النبی ﷺ نے انسانی اور اجتماعی زندگی کے لیے عملی نمونے کے طور پر پیش کیا۔

وفاقی وزیر نے مسلم معاشرے کی فکری اور اخلاقی تشکیل میں خواتین کے کردار کو خصوصی اہمیت دیتے ہوئے کہا کہ خواتین خاندان کی تربیت، نئی نسل کی کردار سازی اور معاشرے کی فکری و اخلاقی نشوونما میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔ انہیں سیرت النبی ﷺ کی تعلیمات اور اقدار کے فروغ میں بھی فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔

احسن اقبال نے کہا کہ مسلم امہ خود احتسابی، اتحاد، علم، نظم و ضبط اور اپنی شناخت و مقصد کے واضح شعور کے ذریعے موجودہ مشکلات پر قابو پاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیرت النبی ﷺ کی تعلیمات کو عملی زندگی اور اجتماعی رویوں میں نافذ کرکے مسلم دنیا اعتماد اور اپنی کھوئی ہوئی قوت دوبارہ حاصل کرسکتی ہے۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More