Daily azad
Daily azad breaking news urd newspaper quetta

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے گرین ٹریکٹر اسکیم کے چوتھے مرحلے کا افتتاح کردیا

لاہور، 23 ستمبر: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے گرین ٹریکٹر اسکیم کے چوتھے مرحلے کا ڈیجیٹل بیلٹنگ کے ذریعے آغاز کردیا جبکہ پانچویں مرحلے کے لیے درخواستوں کا آن لائن پورٹل بھی کھول دیا گیا، جس کے تحت رواں مالی سال کے دوران کسانوں کو مزید 19 ہزار 500 ٹریکٹر فراہم کیے جائیں گے۔

وزیراعلیٰ نے بٹن دبا کر چوتھے مرحلے کی ڈیجیٹل بیلٹنگ کی۔ اٹک کے رہائشی لال خان کے بیٹے مسعود خان پہلے کامیاب درخواست گزار قرار پائے جنہیں اس مرحلے کے تحت ٹریکٹر ملے گا۔

گرین ٹریکٹر اسکیم کے چوتھے مرحلے میں 50 سے 65 ہارس پاور کے 10 ہزار ٹریکٹر کسانوں کو فراہم کیے جائیں گے، جن پر فی ٹریکٹر 7 لاکھ 50 ہزار روپے سبسڈی دی جائے گی۔ پانچویں مرحلے میں 75 سے 125 ہارس پاور کے 9 ہزار 500 طاقتور ٹریکٹر شامل ہیں، جن پر فی ٹریکٹر 10 لاکھ روپے سبسڈی دی جائے گی۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ پنجاب حکومت نے گرین ٹریکٹر اسکیم کے لیے 17 ارب 60 کروڑ روپے مختص کیے ہیں جبکہ اسکیم کے تحت اب تک کسانوں کو 24 ہزار ٹریکٹر فراہم کیے جاچکے ہیں، جن پر فی ٹریکٹر 10 لاکھ روپے سبسڈی دی گئی۔

اسکیم کے لیے 2 لاکھ 13 ہزار 637 سے زائد کسانوں نے درخواستیں جمع کرائیں، جن میں سے پنجاب لینڈ ریکارڈز اتھارٹی اور نادرا کے ذریعے تصدیق کے بعد ایک لاکھ 28 ہزار 757 درخواست گزار بیلٹنگ کے لیے اہل قرار پائے۔

وزیراعلیٰ مریم نواز نے کامیاب درخواست گزاروں کو مبارکباد دی اور اسکیم کے تحت فراہم کیے جانے والے ٹریکٹرز کا معائنہ بھی کیا۔ ان میں مقامی طور پر تیار کیے گئے 90 ہارس پاور اور مقامی طور پر اسمبل کیے گئے 100 ہارس پاور کے ٹریکٹر بھی شامل تھے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ پنجاب میں زرعی مشینری کے فروغ میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ گزشتہ 20 برس کے دوران کسانوں کو 10 ہزار ٹریکٹر فراہم کیے گئے جبکہ وزیراعلیٰ مریم نواز کے ڈھائی سالہ دور میں 35 ہزار ٹریکٹر تقسیم کیے جاچکے ہیں۔

اسی طرح گزشتہ دو دہائیوں کے دوران زرعی مشینری پر 3 ارب روپے خرچ کیے گئے جبکہ گزشتہ ڈھائی برس میں اس مد میں 20 ارب روپے خرچ کیے گئے۔

پنجاب میں پہلی مرتبہ 90 ہارس پاور کے ٹریکٹر مقامی طور پر تیار کرنے اور 100 ہارس پاور کے ٹریکٹر مقامی سطح پر اسمبل کرنے کا عمل بھی شروع ہوا ہے۔

اس اسکیم کے لیے کم از کم 5 ایکڑ زرعی زمین رکھنے والے کسان درخواست دینے کے اہل تھے۔ اضلاع کے لیے کوٹے زیر کاشت رقبے کے تناسب سے مقرر کیے گئے، جن میں بھکر، جھنگ، لودھراں اور وہاڑی کو نسبتاً زیادہ حصہ دیا گیا۔

صوبائی وزیر زراعت عاشق کرمانی نے بتایا کہ اسکیم میں مقامی طور پر تیار کیے جانے والے ٹریکٹرز کے 5 ماڈلز شامل کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسکیم کے نتیجے میں پنجاب میں ٹریکٹرز کی تیاری اور فروخت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More