بشکیک: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کی حقیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لیے پاکستان کے پختہ عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی ایس سی او ممالک کے لیے مشترکہ خطرہ ہے اور اسے اس کی تمام اقسام اور مظاہر، بشمول ریاستی دہشت گردی، واضح اور غیر مبہم الفاظ میں قابل مذمت قرار دیا جانا چاہیے۔
منگل کو بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے ایس سی او پلس اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان عالمی امن کے لیے جاری کوششوں میں فعال کردار ادا کر رہا ہے، جبکہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ اتحاد اور مشترکہ عزم کا واضح پیغام ہے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو بے گناہ فلسطینی عوام کی تکالیف کے خاتمے اور ان کے ناقابل تنسیخ حقِ خود ارادیت کے تحفظ کے لیے فیصلہ کن اقدامات کرنا ہوں گے، جبکہ مشترکہ آبی وسائل سے متعلق معاہدوں کا بھی مکمل احترام کیا جانا چاہیے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ایس سی او پلس کے دوستوں اور شراکت داروں کے اجتماع سے خطاب کرنا ان کے لیے باعثِ اعزاز ہے۔ انہوں نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم میں بڑھتی ہوئی دلچسپی حوصلہ افزا ہے اور یہ اس اہم علاقائی فورم کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور اہمیت کی عکاسی کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا اس وقت غیر معمولی ہنگامہ خیزی اور تبدیلی کے دور سے گزر رہی ہے۔ آٹھ دہائیاں قبل اقوام متحدہ کا قیام اس عالمی خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے عمل میں آیا تھا کہ جنگوں اور تنازعات کا خاتمہ ہو اور پائیدار امن قائم کیا جا سکے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان گزشتہ 80 برسوں سے اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں سے مکمل طور پر وابستہ ہے اور اسے ایک زیادہ مساوی، جمہوری اور منصفانہ بین الاقوامی نظام تشکیل دینے کا ذریعہ سمجھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج اقوام متحدہ کو فوری اصلاحات کی ضرورت ہے تاکہ اسے زیادہ جوابدہ، مؤثر اور موجودہ حالات کے تقاضوں سے ہم آہنگ بنایا جا سکے۔
وزیراعظم نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن کی حیثیت سے پاکستان گزشتہ دو برسوں کے دوران عالمی سطح پر قیام امن کی کوششوں میں فعال کردار ادا کرتا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی امن کوششیں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے ساتھ ایک اہم مرحلے میں داخل ہوئیں، جو خلیجی خطے میں جاری تنازعے کے خاتمے کے لیے سب سے زیادہ قابلِ عمل اور پائیدار راستہ ہے اور مذاکرات و سفارت کاری کے ذریعے امن کے حصول کے لیے تمام فریقوں کو ایک وسیع طور پر قابل قبول بنیاد فراہم کرتی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا بھی دستخط کنندہ ہے، جس نے اتحاد اور مشترکہ عزم کا واضح پیغام دے کر خطے میں امن کے امکانات کو مزید مضبوط کیا اور ترقی و خوشحالی کی راہ ہموار کی ہے۔
غزہ اور مغربی کنارے کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہاں حالات بدستور انتہائی تشویشناک ہیں۔ عالمی برادری کو بے گناہ فلسطینی عوام کی تکالیف کے خاتمے اور ان کے ناقابل تنسیخ حقِ خود ارادیت کے تحفظ کے لیے فیصلہ کن اقدامات کرنا ہوں گے، جبکہ یہی حقوق دیگر تمام مظلوم اقوام کو بھی ملنے چاہئیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ پانی خطے کی شہ رگ ہے، جو لاکھوں انسانوں کی زندگیوں کا سہارا بنتا ہے، زمینوں کو سیراب کرتا ہے اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کو محفوظ بناتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پانی کو کبھی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے اور نہ ہی اسے سیاسی دباؤ کے لیے بروئے کار لایا جانا چاہیے۔ مشترکہ آبی وسائل سے متعلق معاہدے لازمی پابندیوں اور وعدوں کی حیثیت رکھتے ہیں، جن کا ہر صورت مکمل احترام کیا جانا چاہیے۔
دہشت گردی کے مسئلے پر وزیراعظم نے کہا کہ یہ نہ صرف ایس سی او کے رکن ممالک بلکہ ایس سی او پلس میں نمائندگی رکھنے والے دیگر ممالک کے لیے بھی ایک مشترکہ خطرہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان علاقائی انسدادِ دہشت گردی ڈھانچے کے تحت اپنے مشترکہ اہداف کو آگے بڑھانے کے لیے مکمل طور پر پُرعزم ہے، جن میں دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور مذہبی انتہا پسندی کی تین برائیوں سے نمٹنا شامل ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کی لعنت کا بہادری اور ثابت قدمی سے مقابلہ اور اسے شکست دینے کا سلسلہ جاری رکھے گا۔
انہوں نے کہا کہ 90 ہزار سے زائد قیمتی جانوں کی قربانی اور 150 ارب ڈالر کے معاشی نقصانات کے باوجود پاکستانی قوم نے دہشت گردی کے خلاف نہ صرف اپنے لیے بلکہ پوری دنیا کے لیے عزم اور ثابت قدمی کے ساتھ جدوجہد کی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی کو اس کی تمام اقسام اور مظاہر، بشمول ریاستی دہشت گردی، واضح اور غیر مبہم الفاظ میں قابل مذمت قرار دیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ علاقائی روابط اور باہمی رابطہ کاری مشترکہ ترجیح ہے، تاہم یہ اسی صورت حقیقت بن سکتی ہے جب افغانستان میں امن اور استحکام قائم ہو۔
وزیراعظم نے کہا کہ وہ دہشت گرد گروہ جو افغان سرزمین کو پاکستان اور دیگر ہمسایہ ممالک پر حملوں اور بے گناہ لوگوں کے قتل کے لیے استعمال کرتے ہیں، انہیں مؤثر انداز میں روکنا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان شنگھائی تعاون تنظیم کی سربراہی سنبھالتے ہوئے اس پختہ یقین کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں ادا کرے گا کہ ایس سی او کو اپنے عوام کے لیے ٹھوس اور عملی فوائد فراہم کرنے چاہئیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ آئندہ ایک سال کے دوران پاکستان انفارمیشن ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت، توانائی، ترقی اور غربت کے خاتمے، آفات سے نمٹنے، صحت، ثقافت اور کھیلوں کے شعبوں کو ترجیح دے گا۔
انہوں نے ایس سی او کی حقیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لیے پاکستان کے پختہ عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ تنظیم کو مزید بلندیوں تک لے جانے کے لیے پاکستان رکن ممالک اور ایس سی او پلس خاندان کے بھرپور اور مخلصانہ تعاون کا خواہاں ہے۔
وزیراعظم نے شنگھائی تعاون تنظیم کے رہنماؤں کو 2027 میں اسلام آباد میں ہونے والے ایس سی او پلس اجلاس کے آئندہ ایڈیشن میں شرکت کی دعوت بھی دی۔