کراچی: پاکستان میں پیدا ہونے والی نان جی ایم او مکئی معیار کے باوجود کٹائی کے بعد مناسب دیکھ بھال، خشک کرنے، ذخیرہ اور لاجسٹکس کے مسائل کے باعث عالمی منڈی میں 10 سے 15 فیصد تک کم قیمت پر فروخت ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔
پاکستان سے زرعی اجناس برآمد کرنے والے ادارے لوئس ڈریفس کمپنی (LDC) کے کنٹری ہیڈ اور گرینز اینڈ آئل سیڈز کے سربراہ محمد دانیال نے بتایا کہ پاکستانی مکئی کی قیمت کم ہونے کی بنیادی وجہ اس کا معیار نہیں بلکہ فصل میں مطلوبہ حد سے زیادہ نمی اور دیگر کثافتیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نان جی ایم او مکئی پیدا کرتا ہے جس کی عالمی منڈی میں زیادہ قیمت حاصل کی جاسکتی ہے، تاہم کسانوں کے پاس مکئی کو بروقت خشک کرنے، معیاری طریقے سے ذخیرہ کرنے اور منڈی تک پہنچانے کا مؤثر نظام موجود نہیں۔ اس کے باعث پاکستانی مکئی کو بعض اوقات عالمی خریدار خریدنے سے گریز کرتے ہیں اور خریداری کی صورت میں مارکیٹ قیمت سے 10 سے 15 فیصد کم نرخ پیش کیے جاتے ہیں۔
محمد دانیال کے مطابق پاکستان میں مکئی کی پیداوار کے وسیع امکانات موجود ہیں اور بہتر کٹائی، خشک کرنے، ذخیرہ کرنے اور مارکیٹنگ کے نظام کے ذریعے اس فصل کی عالمی مارکیٹ میں مسابقتی حیثیت بہتر بنائی جاسکتی ہے، جس سے ملک کو کروڑوں ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ حاصل ہوسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے نہری نظام کی وجہ سے زرعی پیداوار بڑھانے کی گنجائش موجود ہے، تاہم اس کے لیے زرعی انفرااسٹرکچر کے ساتھ فصلوں کی کٹائی کے بعد اسٹوریج اور لاجسٹکس کے نظام کو عالمی معیار کے مطابق بنانا ضروری ہے۔
LDC کے پاکستان میں کردار کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ ادارے کا مقصد ملک میں پیدا ہونے والی اضافی زرعی اجناس کو عالمی منڈیوں کے مطلوبہ معیار کے مطابق برآمدی سلسلے میں شامل کرنا اور کسانوں کو ان کی پیداوار کی بہتر قیمت دلانے میں مدد فراہم کرنا ہے۔
محمد دانیال نے بتایا کہ اجناس کی اسٹوریج کے مسائل پر قابو پانے کے لیے LDC نے ملتان کے قریب اپنی پہلی سائیلج اسٹوریج سہولت قائم کی ہے، جہاں گندم، مکئی اور چاول سمیت 40 ہزار ٹن اناج کو عالمی معیار کے مطابق ذخیرہ کیا جاسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اضافی فصل کی صورت میں مناسب اسٹوریج نہ ہونے سے پیداوار کے ضائع ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں، جبکہ کٹائی کے فوری بعد مناسب ہوا کی نکاسی اور نمی کے انتظام والی سہولیات میں اناج رکھنے سے نقصان کم اور معیار برقرار رکھا جاسکتا ہے۔
ان کے مطابق بہتر اسٹوریج اور پوسٹ ہارویسٹ نظام سے پاکستانی گندم اور مکئی کو عالمی منڈی میں زیادہ مسابقتی بنانے کے ساتھ مقامی پراسیسرز کو بھی زیادہ مستحکم رسد فراہم کی جاسکتی ہے۔